کراچی کے علاقے گرو مندر میں آخر مندر کہاں ہے؟
کراچی کے علاقے گرو مندر میں آخر مندر کہاں ہے؟
یہ علاقہ کہلاتا تو گرو مندر ہے مگر یہاں صرف ایک ہی عمارت اس نام کے قریب ترین ہے اور اس پر گُر مندر تحریر ہے
’گُرو مندر سے سیدھا جا کر اُلٹے ہاتھ موڑ لو۔‘
’گُرو مندر سے پہلے ہی رک جانا۔‘
’گُرو مندر کے بعد والے پمپ پر آجاؤ۔‘
کراچی کے شہری، خصوصاً وہ جو مزارِ قائد یا سولجر بازار کے قریب رہتے ہیں، اس طرح کے جملے آئے دن استعمال کرتے ہیں۔
گُرو مندر کے نام سے تقریباً ہر کراچی والا واقف ہے اور کام کاج کی غرض سے کم و بیش ہر شہری کا کبھی نہ کبھی یہاں آنا جانا ضرور ہوا ہے۔ لیکن بہادر یار جنگ روڈ پر موجود گُرو مندر، جس سے اس چورنگی یا چوراہے کا نام پڑا ہے، کے بارے میں بہت کم لوگ جانتے ہیں۔
میرا گُرو مندر کے علاقے میں جانے اور وہاں مندر دیکھنے کا اتفاق سنہ 2012 میں ہوا۔
ان دنوں میں کراچی میں ایک انگریزی اخبار کے لیے رپورٹنگ کرتی تھی اور اس دن کوئی خبر نہیں تھی۔ میں نے بڑے فون گھمائے، ٹی وی چینل کھنگالے لیکن کچھ نہ ملا۔ پھر میری بات انسانی حقوق کمیشن کے اس وقت کے رکن امرناتھ موٹومل سے ہوئی۔
امرناتھ صاحب نے بتایا کہ وہ کراچی کے مندروں پر کچھ کام کر رہے ہیں اور مجھ سے سوال کیا: ’کیا آپ کو معلوم ہے کہ گُرو مندر کے علاقے میں مندر کہاں ہے؟‘
ان کے اس سوال کا میرے پاس اس وقت کوئی جواب نہ تھا تاہم ان کی بدولت اب مندر ڈھونڈنے کا خیال میرے دماغ میں اٹک گیا۔ پھر کیا تھا، میں جنگ پریس سے نیچے اتری، آئی آئی چندریگر روڈ سے رکشہ پکڑا اور گُرو مندر کی لیے نکل پڑی۔
مطلوبہ علاقے میں پہنچ کر معلوم ہوا کہ مندر کسی بڑی سی سفید مسجد کے آس پاس ہے۔ تاہم اس مسجد کے تین چکر کاٹنے کے بعد بھی ہمیں وہ مندر دکھائی نہیں دیا۔ مندر دراصل مسجد کی کِس سمت میں واقع ہے، یہ جاننے کے لیے ہمیں اپنی سواری سے اتر کر مسجد کے باہر بیٹھے پان والے سے مدد لینی پڑی۔
آگے کی روداد سے پہلے کچھ ذکر ہو جائے کراچی کے گنجان آباد علاقوں میں کسی جگہ کا پتا ڈھونڈنے کا۔۔۔
اگر آپ کراچی سے واقفیت رکھتے ہیں تو آپ سمجھ سکتے ہیں کہ وہاں کسی کو بھی پتہ بتاتے ہوئے صرف ’پاس میں‘ یا ’برابر‘ کا لفظ استعمال کرنا کافی نہیں ہوتا، بلکہ اگر مسجد کے برابر ہے تو مسجد کا نام جاننا ضروری ہے، کیونکہ شہر کی ہر گلی میں کئی مختلف مساجد ہیں، اور تقریباً ہر دوسری مسجد کا نام ہری، قرطبہ یا مدنی ہے اور کبھی کبھی تو ایک نام والی تین مساجد ایک ہی گلی میں ہوسکتی ہیں۔
اگر گلی کے برابر میں ہے تو گلی کا نام جاننا ہی کافی نہیں، اکثر ایک گلی کے بھی تین مختلف نام ہوتے ہیں: ایک وہ جو انگریز دے کر گئے تھے، دوسرا وہ جو لوگوں نے اپنی طرف سے رکھا ہے اور تیسرا وہ جو حال ہی میں کسی سیاسی یا سماجی شخصیت کے نام پر رکھا گیا ہے۔
ہاں تو ہم تھے سبیل والی بڑی مسجد کے پاس جس کے بالکل برابر گاڑیوں کی پارکنگ ہے اور اس کے ساتھ ہی ایک احاطہ۔ اس احاطے کے باہر کا دروازہ بند رہتا ہے، جبکہ باہر سے ہی ایک مٹیالے رنگ کی عمارت نظر آتی ہے۔ ہم اس طرف بڑھ ہی رہے تھے کہ ایک عمر رسیدہ شخص نے ہم سے آنے کی وجہ پوچھے بغیر دروازہ کھول کر اندر جانے کا راستے دے دیا۔
اس احاطے کے اندر جاتے ہی سامنے مندر نظر آیا لیکن عمارت کا ڈھانچہ مندر جیسا نہیں لگ رہا تھا۔
اگر آپ اس عمارت پر لگی تختی نہ پڑھیں، تو باہر سے دیکھنے پر یہ بالکل مندر جیسی نہیں لگتی
مندر کے بہت قریب جا کر داخلی دروازے کے اوپر لگی تختی کو دیکھنے پر انگریزی میں ’گُر مندر‘ لکھا ہوا نظر آیا۔
اس مندر کی حفاظت کا ذمہ اس وقت وہی عمر رسیدہ شخص کر رہے تھے جنھوں نے میرے لیے دروازہ کھولا تھا۔ انھوں نے اپنا نام انور بتایا اور کہا کہ وہ صرف باہر راہداری کی صفائی کرتے ہیں جبکہ اندر کی صفائی کا ذمہ ’اُن لوگوں کا ہے۔‘
چونکہ اس مندر کا دروازہ کھلا ہوا تھا، تو تجسس ہوا کہ اندر جا کر دیکھا جائے لیکن اندر سپاٹ زمین کے علاوہ کچھ بھی نہیں تھا۔
داخلی دروازے کے بالکل ساتھ ہی اندر ایک چھوٹا سا کمرہ ہے جہاں دیوار کے ساتھ فائلوں کا ایک انبار جمع تھا۔ اُس وقت وہاں انکم ٹیکس کے ملازمین کام کر رہے تھے۔
ایک امید جاگی کہ شاید ان کے پاس کچھ معلومات ہوں لیکن پوچھنے پر پتا چلا کہ ان کو بھی مندر کی تاریخ کے بارے میں زیادہ نہیں پتا۔عمارت کے بیرونی حصے کی چند تصاویر بنانے کے بعد میں دوبارہ پان والے کا شکریہ ادا کرنے ان کی دکان کے پاس رُکی۔ انھوں نے بتایا کہ کئی بار اس مندر کو گرانے سے روکنے کے لیے انڈین ہائی کمیشن کی ٹیم آتی رہی ہے۔


Comments
Post a Comment