سچ میں ’گُرو مندر‘ دراصل ایک گرودوارہ تھا

سچ میں ’گُرو مندر‘ دراصل ایک گرودوارہ تھا

یہ وہ کڑی تھی جہاں سے میں نے اسی مسجد کے قریب ہی واقع متروکہ وقف املاک بورڈ کے ادارے کا رخ کیا۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں شہر کی مذہبی عمارتوں اور زمینوں کے بارے میں تمام تر معلومات ہوتی ہیں اور جن کو مالک نہ ہونے کی صورت میں کسی عمارت کی ذمہ داری سونپی جاتی ہے۔

وہاں سے گُرو مندر کی دستاویزات ملیں جن کے مطابق گُرو مندر دراصل گرودوارہ تھا، نہ کہ مندر، جبکہ تقسیمِ ہند کے بعد سے اس مندر کی ملکیت متنازع رہی ہے۔

دستاویزات کے مطابق گُرو مندر 1935 میں بنا جبکہ 1939 میں اس کی ملکیت حیدرآبادی عامل کو آپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی کو دی گئی۔ تقسیم کے بعد 1948 میں اس وقت کے گُرو مندر ایسوسی ایشن کے صدر بھگوان سنگھ ایڈوانی نے یہ زمین فریڈرک کاٹن سڈنی کو فروخت کردی۔ اس فروخت کی رجسٹری جنوری 1951 میں درج کی گئی۔

10 سال بعد وفاقی حکومت نے وزارتِ خزانہ کے ذریعے اس زمین کو سڈنی سے واپس خرید لیا۔ پھر 1974 میں سیّد مہدی علی شاہ کے پاس یہ زمین رہی، لیکن عدالت کے ذریعے اس زمین کی ملکیت حاصل کرنے کی اُن کی درخواست مسترد ہوگئی۔

اُن کے بھائی ظفر حسین نے ایک اور درخواست دربدر ہوچکے لوگوں کی بحالی اور معاوضے کے قانون ’ڈسپلیسڈ پرسن (کمپنسیشن اینڈ ری ہیبیلیٹیشن) ایکٹ 1958‘ کے تحت دائر کی، لیکن عدالت نے اس درخواست کو بھی مسترد کردیا۔

مقدمے کے دوران یہ بھی بات سامنے آئی کہ انڈین شہری ہونے کے ناطے بھگوان سنگھ ایڈوانی کسی کو بھی پاکستانی علاقے مںی واقع اس گُرو مندر کی زمین فروخت نہیں کرسکتے۔

بالاخر گُرو مندر کے مقدمے کے جج نے اسے متروکہ جائیداد قرار دیتے ہوئے اس معاملے میں مزید فیصلہ محفوظ کرلیا۔

گرو مندر
،تصویر کا کیپشن

گرو مندر چورنگی پر ایم اے جناح روڈ، بزنس ریکارڈر روڈ، جمشید روڈ اور جہانگیر روڈ کا ملاپ ہوتا ہے

اس کے بعد سے گُرو مندر کی زمین کو دو بار انکم ٹیکس اور ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے دفتر کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے، جبکہ پچھلے 14 سالوں سے اس زمین کی ملکیت کے تنازع کا مقدمہ متروکہ وقف املاک بورڈ اور ایکسائیز اینڈ ٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ کے درمیان جاری ہے۔

یہ کراچی کا اکیلا گرو مندر نہیں

اس کے ساتھ ہی گُرو مندر کے بارے میں کہا گیا کہ یہ مندر ہے، جو کہ متروکہ وقف املاک بورڈ کے دستاویزات کے مطابق گُرو دوارہ ہے۔

لیکن بات یہاں نہیں رک جاتی۔ 2014 میں سندھی زبان میں کراچی کے مختلف مقامات پر شائع ہونے والی کتاب ’کراچی سندھ جی مارئی‘ میں مصنف اور محقق گل حسن کلمتی بیان کرتے ہیں کہ اسی علاقے میں تقریباً تین مختلف مندروں کا نام گرو مندر ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’گُرو مندر چوک سے سولجر بازار جاتے ہوئے ایک بہت بڑا مندر آتا ہے جس کا نام پنچم گرو مندر ہے۔ وہ مندر آج بھی ہندوؤں کے پاس ہے جبکہ حال ہی میں اسی جگہ سے کھدائی کے دوران مورتیاں بھی برآمد ہوئی تھیں۔‘

محقق گل حسن کلمتی کہتے ہیں کہ تاریخ کو اگر دیکھا جائے تو گرو مندر چوک سے سولجر بازار کے علاقے تک زیادہ تر رہائشی ہندو تھے۔ ’جبکہ یہ کہنا کہ یہاں گرودوارہ ہے یہ بات سمجھ میں نہیں آتی۔ کیونکہ اگر تاریخ پڑھی جائے تو رام باغ اور نارائن پورہ کے علاقے میں زیادہ تر آبادی سکھ برادری کی تھی۔‘

لیکن انھوں نے یہ بھی کہا کہ گُرو مندر کی تاریخ پر مزید تحقیق کرنے کی ضرورت ہے اور کچھ بھی وثوق سے نہیں کہا جاسکتا۔

دوسری جانب کراچی سے تعلق رکھنے والے محقق اور صحافی اختر بلوچ نے اپنی کتاب کرانچی والا 1 کے باب ’گرو مندر کی تلاش‘ میں لکھتے ہیں کہ گرو مندر ڈھونڈتے ہوئے انھیں تقریباً تین اور مندر مل گئے، لیکن تینوں مندروں کے منتظمین نے ان سے ہاتھ جوڑ کر کہا کہ ’یہ گُرو کا مندر نہیں ہے۔‘

اختر بلوچ اور ان کے ساتھ ان کے ساتھی نے بھی سبیل والی مسجد کے پاس موجود مندر پر ’گُر مندر‘ کی تختی دیکھی اور اپنی کتاب میں اس کا تذکرہ بھی کیا۔ لیکن اس سے زیادہ معلومات جیسے کہ یہ مندر تھا یا گرو دوارہ، کس نے بنایا اور اس کی تاریخی حیثیت کیا رہی ہے اس بارے میں تقریباً متنازع معلومات ہی میسر ہوئیں۔

گرو مندر
،تصویر کا کیپشن

اس عمارت کی اندرونی اور بیرونی وضع قطع روایتی مندروں سے بالکل مختلف ہے

گر مندر آج بھی گرو مندر ہے

آج بھی ہندو اور سکھ برادری کے لوگ گرو مندر کی اصل شناخت پر دو بالکل مختلف رائے رکھتے ہیں۔

1992 میں جب انڈیا میں بابری مسجد کو مسمار کیا گیا تب گُرو مندر چوک کے اردگرد مندروں کو بھی مسمار کرنے کی کوشش کی گئی۔

اسی دوران یعنی 1992 میں پاکستان میں کئی ہندو نام والے علاقوں کے نام تبدیل کرنے کی مہم چلی اور نتیجتاً کئی علاقوں کے نام تبدیل ہوئے۔ انھی علاقوں میں گُرو مندر کا نام بھی لیا گیا۔

علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ گُرو مندر کے بالکل برابر بلند و بالا سبیل والی مسجد بنانے کا مقصد علاقے کا نام گُرو مندر سے بدل کر سبیل والی مسجد رکھنا ہے۔

متروکہ وقف املاک بورڈ کے پاس 1950 کی دہائی کے نقشے کے مطابق بندر روڈ (ایم اے جناح روڈ) سے نمائش چورنگی اور وہاں سے آگے آتے ہوئے گُر مندر سڑک کے کنارے پر تھا۔ حکام بتاتے ہیں کہ سڑک کنارے کی جگہ کئی سال تک خالی رہی لیکن جیسے جیسے شہر کی آبادی بڑھی ویسے ہی مندر کے آس پاس بھی پارکنگ بن گئی۔ پھر گاڑی دھونے والے آئے اور پھر ایک دن مسجد بن گئی۔

لیکن اب تک اس علاقے کا نام تبدیل نہیں ہوسکا ہے۔

کیونکہ بس والوں سے لے کر علاقہ مکینوں، اور یہاں تک کہ دوسرے علاقے سے آنے والوں کے منہ سے بھی بے ساختہ گُرو مندر ہی نکلتا ہے۔

یہ عمارت اب بھی موجود ہے لیکن اب یہاں کے دروازے اور کھڑکیاں بند ہیں۔ شہر کے رش میں اسے دیکھنے کے لیے ایک اور چکر لگانا پڑسکتا ہے کیونکہ اتنے برسوں میں آس پاس ہونے والی تعمیرات کے بعد اب یہ عمارت بھی چھپ کر رہ گئی ہے۔

Timen2.blogspot.com

Comments

Popular posts from this blog

کراچی کے علاقے گرو مندر میں آخر مندر کہاں ہے؟

یورو5 پٹرول اور ڈیزل کیا ہے؟