یورو5 پٹرول

تیل، پاکستان، پٹرول، قیمتیں

یورو 5 سے کیا واقعی تیل کی قیمت بڑھے گی؟

تیل کی خرید و فروخت کے شعبے سے وابستہ افراد کے مطابق یورو5 پٹرول اور ڈیزل کی درآمد سے ان مصنوعات کی قیمتوں میں سات سے آٹھ روپے فی لیٹر کا اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس کی درآمد کے لیے ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں سے اضافی ڈالر خرچ کرنا پڑیں گے۔

پاکستان میں کام کرنے والی تیل کپنی حیسکول کے سابق سربراہ ممتاز حسن خان نے کہا یورو 5 معیار کے ڈیزل اور پٹرول کی درآمد سے ان کی قیمتوں سے سات سے آٹھ روپے کا اضافہ ہو گا۔ انھوں نے کہا اس کے ساتھ اس کی درآمد کے لیے اضافی ڈالر کی بھی ضرورت ہو گی۔

دوسری جانب زاہد میر کے مطابق یہ بنیادی طور پر ایک کمرشل ایشو ہے ۔ یورو 5 کی درآمدی قیمت حکومتی کمپنی کی جانب سے ملک میں درآمد کیے جانے والے تیل یر قیمت فکس کی جائے گی۔ میر کے مطابق اصل مسئلہ ڈیزل کی درآمد کا ہے۔ پی ایس او تو مشرق وسطیٰ سے یہ ڈیزل درآمد کر لے گی لیکن دوسری آئل کمپنیوں کو خطے کی ریفائنریوں سے یہ ڈیزل نہیں مل پائے گا جس کی وجہ سے انھیں یورپ کی ریفائنریوں سے درآمد کرنا پڑے گا۔

میر نے یورو 5 کی درآمد میں سات سے آٹھ روپے اضافے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ اضافہ دو یا تین روپے ہو سکتا ہے اس سے زیادہ نہیں ہو سکتا۔

سید اختر علی نے بھی سات سے آٹھ روپے کے اضافے کو تیل کمپنیوں کی مبالغہ آرائی قرار دیا اور کہا یہ اضافہ بمشکل دو روپے تک ہو سکتا ہے۔

ملک کے زیادہ زرمبادلہ ذخائر خرچ کے بارے میں انھوں نے کہا کہ یہ قیمت اس نقصان سے بہت کم ہے جو سالانہ پاکستانیوں کو پٹرول اور ڈیزل میں سلفر کی زیادہ مقدار کی وجہ سے صحت پڑ خرچ کرنی پڑتی ہے تو اس کے ساتھ ساتھ ماحول کی تباہی کی صورت میں ادا کرنی پڑ رہی ہے۔

آئل ٹینکرز
،تصویر کا کیپشن

’پرانی گاڑیاں یورو 5 پر چل تو سکتی ہیں لیکن اس کا ماحول کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا جبکہ نئے انجن میں وہ ٹیکنالوجی ہوتی ہے جو کم سے کم گیسوں کے اخراج کو ممکن بناتی ہے‘

یورو 5 کیا پرانی گاڑیوں کے لیے سود مند نہیں ہے؟

تیل کمپنیوں کی جانب سے یورو 5 کو ملک میں چلنے والی پرانی کاروں، ٹرکوں اور موٹر سائیکلوں کے لیے سود مند قرار نہیں دیا جا رہا ہے اور اس سلسلے میں حکومت سے کہا گیا کہ مرحلہ وار طور پر یورو 5 پٹرول اور ڈیزل کو ملک میں متعارف کرایا جائے۔

اس سلسلے میں ممتاز حسن نے کہا کہ ماحول کے لیے یورو 5 بہت بہتر ہے تاہم ہمارے زمینی حقائق یورپ سے مختلف ہیں جن کی مثال دی جاتی ہے۔ یورو 5 کے استعمال کے لیے حکومت کو تمام اسٹیک ہولڈرز کو ساتھ بٹھانا چاہیے تھا۔ ان کے مطابق پاکستان میں چلنے والی پرانی گاڑیوں کے لیے یہ ایندھن کارمند نہیں ہے۔

شیل پاکستان کے ایکسٹرنل ریلیشنز کے کنٹری ہیڈ حبیب حیدر نے بتایا کہ پرانی گاڑیاں یورو 5 پر چل تو سکتی ہیں لیکن اس کا ماحول کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا کیونکہ اس میں گیسوں کا اخراج تو ویسے ہی ہوتا رہے گا۔ ان کے مطابق نئے انجن میں وہ ٹیکنالوجی ہوتی ہے جو کم سے کم گیسوں کے اخراج کو ممکن بناتی ہے۔

زاہد میر نے اس تاثر کی نفی کی کہ پرانی گاڑیاں اس فیول پر نہیں چل سکتی ہے۔ ان جکے بقول ’سوائے کچھ بہت پرانی موٹر سائیکلوں کے یورو پاکستان میں چلنے والی تمام گاڑیوں کے لیے کارآمد ہے اور اس میں سلفر کی کم مقدار اسے ماحول دوست ایندھن بناتی ہے۔‘

سید اختر علی کے مطابق یورو 5 پر پرانی گاڑیوں کے نہ چلنے میں کوئی حقیقت نہیں ہے اور ان کے مطابق ویتنام، ملائشیا، سری لنکا اور ہندوستان اس پر تیزی سے شفٹ ہو رہے ہیں اور ہمیں بھی اس جانب تیزی سے بڑھنا ہوگا تاکہ ہم اپنے ماحول کو فضائی آلودگی سے محفوظ رکھ سکیں۔

Timen2.blogspot.com

Comments

Popular posts from this blog

کراچی کے علاقے گرو مندر میں آخر مندر کہاں ہے؟

سچ میں ’گُرو مندر‘ دراصل ایک گرودوارہ تھا

یورو5 پٹرول اور ڈیزل کیا ہے؟