لاہور: پنجاب میں کروناوائرس کے مزید 184 نئے کیسز رپورٹ ہوئے جس کے بعد صوبے بھر میں وبائی مریضوں کی مجموعی تعداد 93,057 ہوگئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق پنجاب میں کرونا وائرس کے کنفرم مریضوں کی تعداد میں مزید کمی ریکارڈ کی گئی ہے، روزانہ کی بنیاد پر رپورٹ ہونے والے کیسز میں آج بھی مزید کمی دیکھی گئی۔
ترجمان پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ کیئر کا کہنا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کرونا وائرس سے 2 مزید دو افراد انتقال کرگئے جس کے بعد اموات کی کل تعداد 2,142 ہوچکی ہیں۔
ترجمان نے بتایا کہ اب تک733,365ٹیسٹ کیے جاچکے ہیں، جبکہ کرونا وائرس کو شکست دینے والوں کی تعداد 82,541 ہوگئی۔ نئے کیسز لاہور میں59، شیخوپورہ 3، راولپنڈی، 5جہلم 3 اور گوجرانوالہ میں 17 رپورٹ ہوئے۔
اسی طرح سیالکوٹ6، گجرات4، حافظ آباد1، منڈی بہاؤالدین6، ملتان4، خانیوال 2، وہاڑی 4، فیصل آباد9، جھنگ2 اور رحیم یار خان میں 3 کیسز سامنے آئے۔ سرگودھا2، خوشاب 3، بھکر1 1،بہاولنگر 1، بہاولپور21، لودھراں 3،ڈی جی خان4، مظفر گڑھ3، ساہیوال1، اوکاڑہ میں 4 اور پاکپتن میں 3کیسز رپورٹ ہوئے۔
کراچی کے علاقے گرو مندر میں آخر مندر کہاں ہے؟ ،تصویر کا کیپشن یہ علاقہ کہلاتا تو گرو مندر ہے مگر یہاں صرف ایک ہی عمارت اس نام کے قریب ترین ہے اور اس پر گُر مندر تحریر ہے ’گُرو مندر سے سیدھا جا کر اُلٹے ہاتھ موڑ لو۔‘ ’گُرو مندر سے پہلے ہی رک جانا۔‘ ’گُرو مندر کے بعد والے پمپ پر آجاؤ۔‘ کراچی کے شہری، خصوصاً وہ جو مزارِ قائد یا سولجر بازار کے قریب رہتے ہیں، اس طرح کے جملے آئے دن استعمال کرتے ہیں۔ گُرو مندر کے نام سے تقریباً ہر کراچی والا واقف ہے اور کام کاج کی غرض سے کم و بیش ہر شہری کا کبھی نہ کبھی یہاں آنا جانا ضرور ہوا ہے۔ لیکن بہادر یار جنگ روڈ پر موجود گُرو مندر، جس سے اس چورنگی یا چوراہے کا نام پڑا ہے، کے بارے میں بہت کم لوگ جانتے ہیں۔ میرا گُرو مندر کے علاقے میں جانے اور وہاں مندر دیکھنے کا اتفاق سنہ 2012 میں ہوا۔ ان دنوں میں کراچی میں ایک انگریزی اخبار کے لیے رپورٹنگ کرتی تھی اور اس دن کوئی خبر نہیں تھی۔ میں نے بڑے فون گھمائے، ٹی وی چینل کھنگالے لیکن کچھ نہ ملا۔ پھر میری بات انسانی حقوق کمیشن کے اس وقت کے رکن امرناتھ موٹومل سے ہوئی۔ امرناتھ صاحب نے بتایا کہ وہ کراچی کے مندروں پر ک...
سچ میں ’گُرو مندر‘ دراصل ایک گرودوارہ تھا یہ وہ کڑی تھی جہاں سے میں نے اسی مسجد کے قریب ہی واقع متروکہ وقف املاک بورڈ کے ادارے کا رخ کیا۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں شہر کی مذہبی عمارتوں اور زمینوں کے بارے میں تمام تر معلومات ہوتی ہیں اور جن کو مالک نہ ہونے کی صورت میں کسی عمارت کی ذمہ داری سونپی جاتی ہے۔ وہاں سے گُرو مندر کی دستاویزات ملیں جن کے مطابق گُرو مندر دراصل گرودوارہ تھا، نہ کہ مندر، جبکہ تقسیمِ ہند کے بعد سے اس مندر کی ملکیت متنازع رہی ہے۔ دستاویزات کے مطابق گُرو مندر 1935 میں بنا جبکہ 1939 میں اس کی ملکیت حیدرآبادی عامل کو آپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی کو دی گئی۔ تقسیم کے بعد 1948 میں اس وقت کے گُرو مندر ایسوسی ایشن کے صدر بھگوان سنگھ ایڈوانی نے یہ زمین فریڈرک کاٹن سڈنی کو فروخت کردی۔ اس فروخت کی رجسٹری جنوری 1951 میں درج کی گئی۔ 10 سال بعد وفاقی حکومت نے وزارتِ خزانہ کے ذریعے اس زمین کو سڈنی سے واپس خرید لیا۔ پھر 1974 میں سیّد مہدی علی شاہ کے پاس یہ زمین رہی، لیکن عدالت کے ذریعے اس زمین کی ملکیت حاصل کرنے کی اُن کی درخواست مسترد ہوگئی۔ اُن کے بھائی ظفر حسین نے ایک اور درخواست دربدر ہوچکے لو...
کمپنیوں کو تیل بیچنے سے مسئلہ کیا ہے؟ ،تصویر کا ذری پاکستان کی وفاقی حکومت نے ملک میں کام کرنے والی تیل کمپنیوں کو یکم ستمبر سنہ 2020 سے ایسا پٹرول اور یکم جنوری سنہ 2021 سے ایسا ڈیزل درآمد کرنے کا کہا ہے جو یورو 5 کے معیار پر پورا اترتا ہو۔ پاکستان میں تیل کے شعبے سے وابستہ کمپنیاں جنھیں آئل مارکیٹنگ کمپنیز کہا جاتا ہے وہ حکومت کے اس فیصلے کی پابندی کرنے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔ یاد رہے ان کمپنیوں میں پاکستان سٹیٹ آئل شامل نہیں ہے جو حکومتی نگرانی میں تیل کے شعبے میں کام کرنے والا ادارہ ہے۔ فیصلے پر عمل کرنے سے کترانے والی ان آئل کمپنیوں کے مطابق یورو 5 معیار کا پٹرول اور ڈیزل درآمد کرنے سے ملک میں ان دونوں کی قیمتوں میں اضافہ ہو جائے گا اور ملک میں چلنے والی گاڑیاں خاص کر پرانی کاریں، ٹرک اور موٹر سائیکلیں یورو 5 پٹرول اور ڈیزل پر چلنے کے قابل نہیں ہیں۔ دوسری جانب توانائی کے امور پر نظر رکھنے والے ماہرین کے مطابق یورو 5 پٹرول اور ڈیزل ماحول کے لیے بہت بہتر ایندھن ہے جس سے ماحولیاتی آلودگی میں بے پناہ کمی آئے گی تو دوسری جانب انھوں نے یورو5 پٹرول اور ڈیزل کی درآمد سے ان...
Comments
Post a Comment