توانائی کی عالمی سطح پر ضرورت
توانائی کی عالمی سطح پر ضرورت
اب صورتحال ایسی ہو چکی ہے کہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ دنیا کی معیشت تیل سے تر ہے اور یہ دنیا کی توانائی کی ایک تہائی طلب کو پورا کرتی ہے۔
یہ کوئلے سے زیادہ ہے اور جوہری توانائی، پن بجلی اور غیر روایتی توانائی کے ذرائع کی مشترکہ صلاحیت سے دوگنی ہے۔
تیل اور گیس توانائی کی ہماری طلب کا ایک چوتھائی حصہ پورا کرتے ہیں۔ اتنا ہی نہیں یہ پلاسٹک کے شعبے کو بھی خام مال مہیا کرتا ہے۔
اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ کا شعبہ بھی تھا۔ ایڈون ڈریک نے سوچا کہ پٹرول کون خریدے گا لیکن کمبسٹن انجن نے ان کے سوال کا جواب دے دیا۔
کاروں سے لے کر ٹرکوں تک، مال بردار جہازوں سے لے کر جیٹ طیاروں تک، یہ وہ تیل ہی ہے جو ہماری دنیا کو چلا رہا ہے۔
کاروں سے لے کر ٹرکوں تک، مال بردار جہازوں سے لے کر جیٹ طیاروں تک، یہ وہ تیل ہی ہے جو ہماری دنیا کو چلا رہا ہے
اس میں حیرت نہیں ہے کہ تیل کی قیمت ہی دنیا کی شاید سب سے اہم قیمت ہے جس پر دوسری قیمتیں منحصر کرتی ہیں۔
سنہ 1973 میں جب چند عرب ممالک نے بعض امیر ممالک کو تیل کی فروخت پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا تو تیل کی قیمت صرف چھ ماہ کے اندر تین ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 12 ڈالر ہو گئی۔
اس کے بعد پوری دنیا میں معاشی سست روی نظر آنے لگی۔ سن 1978، 1990 اور 2001 میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد امریکہ کو معاشی بحران کا سامنا کرنا پڑا۔
کچھ اقتصادی ماہرین کا خیال ہے کہ تیل کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ ہی 2008 کے عالمی معاشی بحران کا سبب تھا جبکہ اس کے لیے بینکاری کے بحران کو ذمہ دار قرار دیا گیا تھا۔
جیسے جیسے تیل کی قیمت بڑھتی ہے معیشتیں بھی اسی راستے کو اپناتی ہیں۔ لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر ہم اس پر اتنا انحصار کیوں کرتے ہیں؟
تیل کی تاریخ پر ڈینیل یرگن کی کتاب ’دی پرائز‘ کی ابتدا ونسٹن چرچل کی مشکل سے ہوتی ہے۔ سنہ 1911 میں چرچل کو رائل نیوی کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا۔
یہ ان چند ابتدائی فیصلوں میں سے ایک تھا جس کا مقصد یہ جاننا تھا کہ آیا سلطنت برطانیہ ویلس کے کوئلے، محفوظ ذخائر یا دور دراز فارس (موجودہ ایران) کے تیل سے چلنے والے نئے جنگی جہازوں کے ساتھ توسیع پسند جرمنی کے چیلینج کا سامنا کر پائے گا؟
اس قسم کے غیر محفوظ ذرائع پر کوئی کس طرح اعتماد کر سکتا ہے؟ کیونکہ تیل سے چلنے والے جنگی جہاز جلدی میں بنائے گئے تھے اور اس میں کم لوگوں کی ضرورت تھی۔ اس کے ساتھ جنگی جہاز میں اسلحہ اور گولہ بارود لے جانے کی زیادہ صلاحیت تھی۔
سنہ 1951 میں ایران کی حکومت نے اس کو قومی تیل کمپنی بنا دیا۔ انگریزوں نے احتجاج کیا ’یہ ہماری کمپنی ہے۔‘ ایران نے جواب دیا ’یہ ہمارا تیل ہے۔‘ اور پھر مستقبل میں بھی پوری دنیا میں اسی بحث کو دہرایا گیا۔
کچھ ممالک نے تیل کے شعبے میں بہت عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ سعودی عرب تیل کے بڑے ذخائر کی بدولت روئے زمین کے امیر ترین ممالک میں سے ایک ہے۔
اس کی سرکاری ملکیت والی تیل کمپنی، سعودی آرامکو امریکی کمپنی ایپل، گوگل یا ایمیزون سے کہیں زیادہ مالیت کی ہے۔
آرامکو دنیا کی سب سے منافع بخش تیل کمپنی ہے جسے حال ہی میں ’ڈرون‘ حملوں کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ (اس سے تیل کی قیمتیں بہت بڑھ سکتی ہیں۔)
تاہم کوئی بھی ملک جاپان یا جرمنی کی طرح سعودی عرب کی پیچیدہ معیشت کے بارے میں الجھن میں نہیں رہے گا۔ شاید یہ بڑے پیمانے پر پٹول کی طرح قدرے زیادہ ہے۔
عراق سے لے کر ایران اور وینزویلا سے نائیجیریا تک تیل سے مالا مال ممالک نے اس دریافت کے لیے شکریہ ادا کیا۔ لیکن ماہرین معاشیات اسے ’تیل کی لعنت‘ کہتے ہیں۔

Comments
Post a Comment